باری[1]

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - (نمبروار کاموں یا شخصوں میں سے ہر ایک کا) نمبر، نوبت، وقت۔  رنگ کسی حالت میں نہ بدلا قسمت کی کوتاہی کا میری باری جس دم آئی ٹوٹ گیا پیمانہ بھی    ( ١٩٤٧ء، نوائے دل، ٣٨٧ ) ٢ - دورے یا نوبت کی تپ یالرزنے کا دن (اکثریت وغیرہ کے ساتھ)۔ "باری کے وقت ٹھنڈے تدابیر کام میں لائے جائیں اور مبردات استعمال کیے جائیں۔"    ( ١٩٣٣ء، بخاری کا اصول علاج، ٧٧ ) ٣ - موقع۔ "اب ان جذبات کی باری آگئی ہے جن کو ہم جذبات عالیہ کہہ سکتے ہیں۔"      ( ١٩٢٤ء، فطرت نسوانی، ١١٠ ) ٤ - دفعہ، مرثیہ۔  تڑپے جوز میں پر کئی باری شہ والا تھا شور کہ لو ہو گئی دنیا تہ و بالا      ( ١٩١٥ء، ذکرالشہادتین، ١٤ ) ٥ - پہرا، چوکی، ڈیوٹی۔ (ماخوذ : پلیٹس؛ نوراللغات، 530:1)

اشتقاق

سنسکرت میں اصل لفظ 'وار' سے ماخوذ اردو میں 'بار' مستعمل ہے۔ 'بار' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ تانیث لگنے سے 'باری' بنا۔ اردو میں ١٦٥٧ء میں "گلشن عشق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - دورے یا نوبت کی تپ یالرزنے کا دن (اکثریت وغیرہ کے ساتھ)۔ "باری کے وقت ٹھنڈے تدابیر کام میں لائے جائیں اور مبردات استعمال کیے جائیں۔"    ( ١٩٣٣ء، بخاری کا اصول علاج، ٧٧ ) ٣ - موقع۔ "اب ان جذبات کی باری آگئی ہے جن کو ہم جذبات عالیہ کہہ سکتے ہیں۔"      ( ١٩٢٤ء، فطرت نسوانی، ١١٠ )

اصل لفظ: وار
جنس: مؤنث